Saturday, December 29, 2018

نواز شریف بمقابلہ زرداری.....! زرداری اور نوازشریف کی کرپشن میں زمین اسمان کا فرق ھے نوازشریف چونکہ ایک بزنس مین ھے اس لئے اس نے بہت ٹیکنکل طریقے سے کرپشن کی ھے جس کا سراغ لگانا یا اسے پکڑنا بہت مشکل تھا

نواز شریف بمقابلہ زرداری.....! 
زرداری اور نوازشریف کی کرپشن میں زمین اسمان کا فرق ھے
نوازشریف چونکہ ایک بزنس مین ھے اس لئے اس نے بہت ٹیکنکل طریقے سے کرپشن کی ھے جس کا سراغ لگانا یا اسے پکڑنا بہت مشکل تھا
نوازشریف کا طریقہ کرپشن اس طرح تھا کہ اس نے ملک میں بڑے بڑے پراجیکٹ لانچ کئے اس میں دو فائدے تھے ایک تو یہ کہ لوگوں کو اس پراجیکٹ سے فائدہ ملتا تھا اور دوسرا یہ کہ کمیشن بھی زیادہ ملتا تھا اور کوئی ثبوت بھی نہیں ھوتا تھا 
جو لوگ ٹھیکیداری کرتے ہیں یا سی این ڈبلیو میں ملازمت کرتے ہیں وہ میری بات اسانی سے سمجھ جائیں گے
مثلا موٹرے کھربوں کا منصوبہ تھا اس لئے اس میں بہت تگڑی کمیشن ملی اس طریقے میں یہ ھوتا ھے کہ کنٹریکٹر سے زبانی وعدہ کیا جاتا ھے کہ فلاں ٹھیکہ میں اپ کو دونگا مگر اس میں مجھے اتنے فیصد کمیشن دو گے
مثلا 50 ارب کا ٹھیکہ ھو تو 5 سے دس ارب کی کمیشن اسانی سے مل جاتی ھے وہ بھی بغیر کسی تحریری معاہدے کے جس کا کوئی ثبوت بھی نہیں ھوتا اور چونکہ زمین پر وہ پراجیکٹ نظر بھی اتا ھے اس لئے لوگ کرپشن کو نظرانداز کرکے منصوبے سے مستفید رہتے ہیں اب اپ نوازشریف کے سارےمنصوبوں کے بارے میں سوچو تو بات سمجھ آ جائے گی۔
"اس لئے تو پٹواری کہتے ہیں کہ کھاتا بھی ھے تو لگاتا بھی تو ھے"
اپ نے سنا ھوگا کہ نوازشریف کہتا ھے کہ مجھ پر کرپشن ثابت کرو میرے اثاثے اگر امدن سے زیادہ ھے تو تمہیں اس سے کیا ان کو پتہ ھے کہ میرے کرپشن کا کوئی ثبوت موجود نہیں ھے۔ اور پٹواریوں کو اسی بیانئے سے وہ بیوقوف بنا رہا بےکہ دیکھو مجھ پر کرپشن ثابت نہیں ھوئی۔
مشہور مثال ھے کہ چور چاہے جتنا بھی ہوشیار ھو وہ کوئی نہ کوئی سراغ ضرور چھوڑ جاتا ھے، اور نواز شریف کے کیس میں بھی ایسا ہوا -
وہ اس طرح کہ سپریم کورٹ نے نوازشریف کو بڑے ٹیکنکل طریقے سے پھنسایا ان کے اثاثوں کے بارے میں سوالات پوچھے تھے کہ اپ کی زریعہ آمدن کیا ھے اور جائداد کتنا ھے مطلب نواز شریف کو امدن سے زیادہ اثاثے رکھنے کے جرم میں سزا ھوئی
کیونکہ سپریم کورٹ اور نیب کو پتہ تھا کہ اس کے خلاف کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں ملے گا کیونکہ ان کی ساری کرپشن کمیشن اور کک بیکس کے زریعے ہوئی تھی
نوازشریف کے کیس میں صرف ان کا خاندان پھنس گیا اور اس کا اثر ن لیگ پر نہیں پڑا
جبکہ زرداری ایک عام سا چور اچکا ھے اس نے ایسے کرپشن کی ھے کہ سارے ثبوت موجود ھے
ھوا یہ کہ زرداری نے نہ کوئی بڑا پراجیکٹ بنایا ھے اور نہ کمیشن لیا ھے بلکہ اس نے لینڈ مافیا (ملک ریاض) کے ساتھ مل کر زمینیں ہتھیائی ھے جس کا ریکارڈ بھی موجود ھے اور زمین بھی اپنی جگہ موجود ھے اب زمین کو انسان چھپا بھی نہیں سکتا ۔
جبکہ منی لانڈرنگ کے لئے جعلی اکاونٹ بنائے تھے جس کی ساری ٹرانزیکشن بینکوں میں موجود ھے اومنی گروپ اور سمٹ بینک کا سارا ریکارڈ بھی موجود ھے ان کو کیا پتہ تھا کہ ایک دن ان جعلی اکاونٹس کا کسی کو پتہ لگے گا
جے ائی ٹی نے بہت اسانی سے سارا کچھ ٹریس کر لیا کیونکہ اپ سب کو پتہ ھے کہ بینکوں کا سارا نظام کمپیوٹرائز ھوتا ھے اور کمپیوٹر ریکارڈ محفوظ ھوتا ھے
زرداری نے خود بھی پیسہ بنایا اور اپنی ساری پارٹی ممبران کو بھی کھلایا ھے وہ بھی اسی بھونڈے طریقے سے-
اس لئے اپ سب یاد رکھو کہ پیپلزپارٹی کی 70 فیصد قیادت اس کیس میں جیل جائے گی مطلب پیپلزپارٹی ختم ھو جائے گی کیونکہ ان کے سارے بڑے لیڈران اس جعلی اکاونٹس کیس میں پکڑے جائیں گے ۔
اگے ایک دو مہینوں میں سب کچھ اپ اپنی انکھوں سے دیکھ لو گے۔۔ انشاء اللہ

Tuesday, December 25, 2018

بالآخر حق جیت گیا اور باطل ہار گیا۔ اللّٰہ سبحانہ و تعالٰی اپنے کتاب میں فرماتے ہیں : "بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے"


بالآخر حق جیت گیا اور باطل ہار گیا۔
اللّٰہ سبحانہ و تعالٰی اپنے کتاب میں فرماتے ہیں :
"بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے"
كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ مَعَ الصَّابِرِينَ ﴿٢٤٩﴾ سورہ البقرہ
تقریبا ایک ماہ پہلے امریکہ کے چیٸر مین جواٸنٹ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل جوزف ڈن فورڈ نے افغان جنگ میں شکست کا اعتراف کرتے ہوٸے کہا تھا کہ 17 سالہ جنگ کے بعد بھی طالبان نہایت مضبوط پوزیشن میں ہیں انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں افغان معاملے پر لگی لپیٹی بات کرنے کی بجاٸے طالبان کی مضبوط پوزشن تسلیم کرلینا چاہیے،
اب ٹھیک ایک ماہ بعد امریکی صدر نے شام سے فوجی انخلا کے بعد افغانستان سے اپنی افواج واپس بلانے کا اعلان کیا ہے-
جنگوں کی تاریخ میں مراد اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنا اور مد مقابل کے مطالبات کو تسلیم کرنا شکست کہلاتا ہے، آج امریکہ اور اس کے اتحادی مزاکرات کے ٹیبل سے محفوظ راستے( save exit) کے متلاشی ہیں کیونکہ افغانی تاریخ سے واقف ہر شخص کو معلوم ہے کہ افغانستان ہمیشہ بیرونی طاقتوں کے لیے قبرستان ثابت ہوا ہے،
آج امریکہ 48 ممالک کے نیٹو اتحاد سے مل کر مٹی بھر جنگی وساٸل نہ رکھنے والے نہتے طالبان سے شکست و ہزیمت اٹھا کر واپس لوٹ رہا ہے، اور رہتی دنیا تک یہ پیغام چھوڑ کر جا رہا ہے کہ جنگیں لڑنے اور جیتنے کے لیے صرف جدید ٹیکنالوجی اور جنگی وساٸل ہی نہیں بلکہ مستقل مزاجی اور قوت ایمانی بھی ضروری ہے،
امریکی شکست کا اندازہ اس بات سے لگایا جائے کہ وہ طالبان جس کی سروں کی قیمت لاکھوں ڈالر لگائے گئے تھے آج اسی طالبان کو پورے افغانستان میں فری ہینڈ دے دیا گیا کہ وہ جہاں چاہیں مرضی سے آ جا سکتے ہیں اور ان پر افغانستان کی حکومت کسی بھی قسم کی پابندی عائد نہیں کر پائے گی۔ آج امریکہ طالبان سے مزاکرات کی ٹیبل پر آکر اپنی شکست ماننے پر مجبور ھوگیا ہے جس کی ایک مثال امریکی وزیر دفاع جان میٹس کا استعفیٰ ہے۔وہ امریکہ جو پاکستان کو ھمیشہ Do More کے نعرے لگاتا تھا، آج Help More کہنے پر مجبور ھوگیا۔۔۔وہ انڈیا جو افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے خواب دیکھتا تھا اور مسلسل دھشت گردی کی وارداتوں ملوث تھا، آج طالبان نے انڈین پُتلی افغان حکومت کو اس کمرے میں بیٹھنے نہی دیا جس میں وہ امریکہ، پاکستان،چین، سعودیہ عرب، ترکی سے مزاکرات کررھا تھا۔۔
انسانی تاریخ کی ایک طویل جنگ جس میں لاکھوں انسانی جانوں کا نقصان ھوا، امریکہ نے $1.07 ٹریلین ڈالرز جھونکے اور اپنی ہزاروں فوجی مروائے مگر افغان عوام نے برطانیہ اور روس کے بعد ایک اور سپرپاور جو جدید ٹیکنالوجی سے لیس تھا کو گُھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ۔۔۔ اس وقت مجھے مجاہد ملا عمر کی ایک مشہور کہاوت یاد آ رہی ہے کہ " اگر امریکہ کے پاس گھڑیاں ھیں تو ھمارے پاس وقت ھے۔۔۔آج امریکی اپنی گھڑیاں دیکھنا بھول چکے ھے۔
300 طالبان قیدی جیلوں سے رہا کر کے طالبان کے حوالے کر دیے گئے جس کے بدلے طالبان نے 9 امریکی فوجی پہلے مرحلے میں رہا کیے،
تاریخ میں لکھاجائے گا کہ پوری دنیا کی عظیم طاقتوں کو چند نہتے افغانیوں نے الٹ کر رکھ دیا۔ میرے خیال میں یہ شکست امریکی قوم کے لئے ایک ایسا گہرا زخم بن گیا ہے جس کے چاٹنے کے لئے امریکی نسلیں صدیوں اس کا اعتراف کریں گی -
مغربی دنیا سے مرعوب لوگوں، امریکہ کو ‘سپر پاور’ کہنے والوں۔۔ ایک کال پر سرینڈر ہوجانے والوں۔۔
دیکھو میرے اللہ کی طاقت۔۔جو سب سے سپر ہے
جن کے پاس دنیاوی طاقتوں میں سے کچھ نہیں تھا، لیکن اللہ کی مدد تھی ان کو اللہ نے فاتح بنادیا
۔
فَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بِالطَّاغُوۡتِ وَ یُؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ فَقَدِ اسۡتَمۡسَکَ بِالۡعُرۡوَۃِ الۡوُثۡقٰی لَا انۡفِصَامَ لَہَا ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿سورہ البقرہ۔۲۵۶﴾
" جو شخص طاغوت(کفر) سے انکار کرے اور اللہ تعالٰی پر ایمان لائے اس نے مضبوط سہارے کو تھام لیا جو کبھی نہ ٹوٹے گا اور اللہ تعالٰی سننے والا جاننے والا ہے ۔"
اور آخر کار باطل کو مغلوب ہونا ہے۔۔
اور یہ میرے رب کا وعدہ ہے۔۔

Monday, December 24, 2018

*چھوٹاکالم113* *امریکی فوج کی افغانستان سے واپسی* " *ایک عظیم انسان کی عظیم پیش گوئی* " عظمت کو ناپنے کے پیمانے مختلف ہوتے ہیں۔ *معاصر حکمرانوں میں سے امیرالمومنین ملا محمد عمر وہ شخصیت ہے جسے تاریخ کئی حوالوں سے یاد رکھے گی۔*


*چھوٹاکالم113*
*امریکی فوج کی افغانستان سے واپسی*
" *ایک عظیم انسان کی عظیم پیش گوئی* "
عظمت کو ناپنے کے پیمانے مختلف ہوتے ہیں۔ *معاصر حکمرانوں میں سے امیرالمومنین ملا محمد عمر وہ شخصیت ہے جسے تاریخ کئی حوالوں سے یاد رکھے گی۔*
وہ جب روس جیسی طاقت سے نپٹ کر دوبارہ اپنی کتابوں سمیت گوشہ نشین ہوئے تو علم ہواکہ *شھبازوں کا نشیمن زاغوں کے تصرف میں* آچکاہے۔ اسے دوبارہ کارزار میں اترناپڑا۔
جب وہ اندرون ملک *طوائف الملوکی* سے نپٹے تو عالمی طاقتیں ایکاکرکے ان کے ٹوٹے پھوٹے ملک پر چڑھ دوڑیں۔ وہ *مشرق کے طواغیت* سے فارغ نہ ہوئےتھے کہ *مغرب کے سورماؤں کابڑھکایاہوا آگ کادریا* ان کے سامنے تھا۔ انہوں نے ہمت نہ ہاری اور اپنے ساتھیوں کو پیغام دیا کہ *پہاڑوں میں نکل جاؤ اور ان کو نیچے آنے دو۔* *ہتھ جوڑی کامزا* تو اب آئے گا۔
*معاصردنیا کا کوئی ایساحکمران نہیں جو ان کی سیاست وتدبیرسےاور دنیاکی ترقی یافتہ فوجوں کا ایساجرنیل نہیں جو ان کی عسکریت سے شکست نہ کھاچکاہو*۔
انہوں نے نہ صرف اپنے ساتھیوں کو سنبھالے رکھا اور ان کی منتشر ٹولیوں کے ذریعے *تاریخ عالم کی طویل اور عجیب جنگ* لڑتےرہے بلکہ اپنے *مخالفین کامنہ اپنے کردار سے بند کرنے میں بھی ان کاجواب نہ تھا۔*
*ان کاخاموش جواب* ان کے *قدر شناسوں میں اضافہ اور ناقدروں کو متاثر* کرتے رھے۔
وہ *دنیا کےوہ حکمران* تھے جوہمارے اسلاف کی طرح بیک وقت *سربراہ مملکت بھی* تھے اور اپنی *سپاہ کےجرنیل بھی۔*
*ان کی آفاقی انفرادیت ہے کہ مرنے کے بعد بھی عوام کے دلوں پر حکومت کے ساتھ مجاھدین کی قیادت بھی کرتےرھے۔*
آج ان کی وہ *عظیم پیش گوئی* پوری ہوگئی ہے جو انہوں نے *بی بی سی پشتوسروس* کے نمائندے *داودجنبش* کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی تھی۔
*"امریکا کاآناوقتی گھمنڈ کے تحت ہے لیکن واپسی دائمی رسوائی کے ساتھ ہوگی۔"*
*بہادری اور دور اندیشی کے قدر داں انسانو !کہاں ہو؟*
آؤ! مل کر اس درویش مجاھد کو سلام پیش کریں جس نے اس گئے گذرے دور میں *مظلوم انسانیت کاسرفخرسے بلند کردیاہے۔*
مفتی ابولبابہ شاہ منصور صاحب

#غیر مسلم کی تہواروں جیسے کرسمس ہولی، دیوالی، جشنِ نوروز وغیرہ کی مبارک باد کا شرعی حکم...! اقلیتوں سے اچھے سلوک کا حکم تعامل اور ان کے ساتھ معاشرے میں رہن سہن کے طور طریقہ شریعت میں واضح ہیں تالیف قلب یا انکی خوشیوں میں شرکت کا قطعا یہ مطلب نہیں کہ انکے مذہبی تہواروں میں شرکت شروع کر دی جائے - یہ اچھا سلوک پورے سال علاوہ انکے تہواروں کے جاری رکھیں- ارشاد باری تعالیٰ ہے :گناہ کی مجلس میں شامل نہ ہو "اور حدیث مباركہ ھے.."الله كے دشمنوں سے انکے تہوار میں اجتناب کرو.. غیر مسلموں کے تہوار کے دن انکی عبادت گاھوں میں داخل نہ ھو کیونکہ ان پر الله کی ناراضگی نازل ھوتی ھے.."(بيهقی9/392)


#غیر مسلم کی تہواروں جیسے کرسمس ہولی، دیوالی، جشنِ نوروز وغیرہ کی مبارک باد کا شرعی حکم...!
اقلیتوں سے اچھے سلوک کا حکم تعامل اور ان کے ساتھ معاشرے میں رہن سہن کے طور طریقہ شریعت میں واضح ہیں تالیف قلب یا انکی خوشیوں میں شرکت کا قطعا یہ مطلب نہیں کہ انکے مذہبی تہواروں میں شرکت شروع کر دی جائے - یہ اچھا سلوک پورے سال علاوہ انکے تہواروں کے جاری رکھیں-
ارشاد باری تعالیٰ ہے :گناہ کی مجلس میں شامل نہ ہو "اور
حدیث مباركہ ھے.."الله كے دشمنوں سے انکے تہوار میں اجتناب کرو.. غیر مسلموں کے تہوار کے دن انکی عبادت گاھوں میں داخل نہ ھو کیونکہ ان پر الله کی ناراضگی نازل ھوتی ھے.."(بيهقی9/392)
اسلام غیر مسلموں سے رواداری اور حسن سلوک کی تلقین کرتا ھے.. دین اسلام ھی وہ واحد مذھب ھے جو حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان کی تلقین کرتا ھے.. اگر کوئی مسلمان حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان نہ رکھے تو وہ مسلمان نہیں ھو سکتا لیکن جس عمل سے عقیدے اور ایمان پر زد پڑتی ھو اس سے اجتناب ضروری ھے.. کچھ"روشن خیال"لوگ عیسائیوں کو کرسمس کی مبارک باد دیتے ھیں لیکن کرسمس کی'خوشیوں'میں شریک ھونا اور اِس کفریہ شعار اور عیدوں پر عیسائیوں کو مبارکباد پیش کرنا اور تہنیتی پیغام دینا بالاتفاق حرام ھے کیونکہ عیسائیوں کا کرسمس خالصتاً ایک کافرانہ تہوار ھے.. یہ اُس کفریہ ملت کی ایک باقاعدہ پہچان اور شعار ھے جو حضرت عیسیٰ عليہ السلام کو "خدا کا بیٹا" کہہ کر پروردگارِ عالم کے ساتھ شرک کرتی ھے.. نیز نبی آخر الزمان حضرت محمدٌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسترد کرکے وقت کی "آسمانی رسالت" کی منکر اور عذابِ الٰہی کی طلبگار ٹھہرتی ھے.. کرسمس کے اِس شرکیہ تہوار کی وجہِ مناسبت ھی یہ ھے کہ ان کے بقول اس دن"خدا کا بیٹا یسوع مسیح پیدا ھوا تھا"
ارشاد ربانی ہے :
کَبُرَتْ کَلِمَۃً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاہِہِمْ إِن یَقُولُونَ إِلَّا کَذِبا.."
ترجمہ :بہت بڑی بات ھے جو ان کے منہ سے نکلتی ھے.. نہیں بولتے یہ مگر بہتان.."(الکہف:۵)
مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ ایک ایسی قوم کو جو (معاذ اللہ)"خدا کے ھاں بیٹے کی پیدائش"پر جشن منا رھی ھو'مبارکباد پیش کرنے جائے اور اِس ’"خوشی"میں اُس کے ساتھ کسی بھی انداز اور کسی بھی حیثیت میں شریک ھو.. یہ عمل بالاتفاق حرام ھے بلکہ توحید کی بنیادوں کو مسمار کر دینے کا موجب ھے- کیونکہ اللہ سبحان و تعالٰی اپنی کتاب میں فرماتے ہیں :
"کہو.. وہ اللہ یکتا ھے.. الله سب سے بے نیاز ھے.. نہ وہ کسی کا باپ ھے اور نہ وہ کسی کا بیٹا ھے اور نہ ھی کوئی اس کا ھمسر ھے..''(سورہ الاخلاص)
امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں
"شعائر کفر سے متعلقہ کاموں پر مبارکباد دینا بالاتفاق علماء حرام ہے ۔ جیسے تہواروں یا ان کے روزے کے دن انہیں یہ کہنا :" آپ کو عید مبارک ہو"۔ یا اس طرح دیگر تہواروں کو مبارکباد دینے والے کلمات کہنا، اس کی مثال ایسی ہے جیسے انہیں صلیب کو سجدہ کرنے پر مبارکباد دی جائے ، یہ تو اللہ کے نزدیک کسی کو شراب پینے ، ناحق قتل کرنے اور زنا کرنے جیسے گناہوں پر مبارکباد دینے سے بھی زیادہ برا گناہ ہے اور اس کی ناراضگی کا باعث ہے ۔
ان تہواروں پر مبارکباد دینے والوں میں اکثریت ان لوگوں کی ہوتی ہے جن کے پاس دین کی کوئی قدروقیمت نہیں ہوتی ، اور انہیں اپنے اس فعل کی قباحت کا علم نہیں ہوتا ہے ، پس جس کسی نے کسی کو کسی بدعت یا نافرمانی یا کفر کرنے پر مبارکباد دی تو وہ اللہ کے غضب اور اس کے عذاب مستحق ٹھہرا"۔
(احکام اھل الذمۃ : 441/442-1
۔
ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﮐﻔﺎﺭ ﮐﻮ ﺍﻧﮑﮯ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﺗﮩﻮﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺎﺭﮐﺒﺎ ﺩ ﺩﯾﻨﺎ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﺣﺮﻣﺖ ﮐﯽ ﺷﺪﺕ ﺍﺑﻦ ﻗﯿﻢ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺫﮐﺮ ﮐﺮﺩﯼ ﮨﮯ، - ﺣﺮﺍﻡ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮑﮯ ﮐﻔﺮﯾﮧ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﮐﺎ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﮧ ﻓﺮﻣﺎﻥِ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﮯ :
{ ﺇﻥ ﺗﻜﻔﺮﻭﺍ ﻓﺈﻥ ﺍﻟﻠﻪ ﻏﻨﻲ ﻋﻨﻜﻢ ﻭﻻ ﻳﺮﺿﻰ ﻟﻌﺒﺎﺩﻩ ﺍﻟﻜﻔﺮ ﻭﺇﻥ ﺗﺸﻜﺮﻭﺍ ﻳﺮﺿﻪ ﻟﻜﻢ }
ﺗﺮﺟﻤﮧ : ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﮐﻔﺮ ﮐﺮﻭ ﺗﻮ ﺑﯿﺸﮏ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻣﺤﺘﺎﺝ ﻧﮩﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ‏( ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ‏) ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﻔﺮ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺍﺳﮑﺎ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻭ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮦ ﻋﻤﻞ ﮨﮯ -
اس کے علاوہ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺗﮩﻮﺍﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﻣﺒﺎﺭﮐﺒﺎﺩ ﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺍﺳﮑﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﻨﮕﮯ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺗﮩﻮﺍﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﻥ ﺗﮩﻮﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﺎ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺗﮩﻮﺍﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺬﮨﺐ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺳﺎﺧﺘﮧ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﻧﮑﮯ ﺩﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﭘﺮ ﺳﺎﺭﯼ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻧﺎﺯﻝ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﮐﻮ ﻣﻨﺴﻮﺥ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
{ ﻭﻣﻦ ﻳﺒﺘﻎ ﻏﻴﺮ ﺍﻹﺳﻼﻡ ﺩﻳﻨﺎً ﻓﻠﻦ ﻳﻘﺒﻞ ﻣﻨﻪ ﻭﻫﻮ ﻓﻲ ﺍﻵﺧﺮﺓ ﻣﻦ ﺍﻟﺨﺎﺳﺮﻳﻦ }
ﺗﺮﺟﻤﮧ : ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﯾﻦ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﯾﮕﺎ ؛ ﺍﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻗﺒﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ، ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺁﺧﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﺧﺴﺎﺭﮦ ﭘﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﻮﮔﺎ۔
ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺱ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﺗﻘﺎﺭﯾﺐ ﭘﺮ ﺍﻧﮑﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻧﮑﯽ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮﻧﺎ ﺍُﻧﮩﯿﮟ ﻣﺒﺎﺭﮐﺒﺎﺩ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﺍ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ۔
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﻥ ﺗﮩﻮﺍﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﮐﻔﺎﺭ ﺳﮯ ﻣﺸﺎﺑﮩﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻘﺎﺭﯾﺐ ﮐﺎ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﮐﺮﯾﮟ، ﯾﺎ ﺗﺤﺎﺋﻒ ﮐﺎ ﺗﺒﺎﺩﻟﮧ ﮐﺮﯾﮟ، ﯾﺎ ﻣﭩﮭﺎﺋﯿﺎﮞ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﺮﯾﮟ، ﯾﺎ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮈﺷﯿﮟ ﺑﻨﺎﺋﯿﮟ، جیسے کیک وغیرہ ﯾﺎ ﻋﺎﻡ ﺗﻌﻄﯿﻞ ﮐﺎ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﮐﺮﯾﮟ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻧﺒﯽ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﮨﮯ :
"من تشبه بقوم فهو منهم
ترجمہ :‏ ﺟﻮ ﺟﺲ ﻗﻮﻡ ﮐﯽ ﻣﺸﺎﺑﮩﺖ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﯾﮕﺎ ﻭﮦ ﺍُﻧﮩﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﮯ ‏۔"
ﺷﯿﺦ ﺍﻻﺳﻼﻡ ﺍﺑﻦ ﺗﯿﻤﯿﮧ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﺎﺏ ‏( ﺍﻗﺘﻀﺎﺀ ﺍﻟﺼﺮﺍﻁ ﺍﻟﻤﺴﺘﻘﻴﻢ، ﻣﺨﺎﻟﻔﺔ ﺃﺻﺤﺎﺏ ﺍﻟﺠﺤﻴﻢ ‏) ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ :
" ﮐﻔﺎﺭ ﮐﮯ ﭼﻨﺪ ﺍﯾﮏ ﺗﮩﻮﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻣﺸﺎﺑﮩﺖ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍُﻧﮑﮯ ﺑﺎﻃﻞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﺮﺕ ﮐﯽ ﻟﮩﺮ ﺩﻭﮌ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ،ﺍﻭﺭ ﺑﺴﺎ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺳﮑﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﺻﺖ ﺳﮯ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﮭﺴﻼﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ " ﺍﻧﺘﮩﯽ ﻣﺬﮐﻮﺭﮦ ﺑﺎﻻ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺎﻡ ﮐﯿﺎﻭﮦ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﮨﮯ، ﭼﺎﮨﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﺎﻣﻠﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ، ﯾﺎ ﺩﻟﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ، ﯾﺎ ﺣﯿﺎﺀ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺳﺒﺐ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ، ﺍﺳﮑﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﯾﻦ ﺍﻟﮩﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﻼﻭﺟﮧ ﻧﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ، ﺟﻮ ﮐﮧ ﮐﻔﺎﺭ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻧﻔﺴﯿﺎﺗﯽ ﻗﻮﺕ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻨﯽ ﻓﺨﺮ ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ ﺑﻨﺎ ﮨﮯ۔
‏( ﻣﺠﻤﻮﻉ ﻓﺘﺎﻭﻯ ﻭﺭﺳﺎﺋﻞ ﺷﻴﺦ ﺍﺑﻦ ﻋﺜﻴﻤﻴﻦ 3/369 ‏)
حضرت عمر فاروق کی غیرت دینی اور اہل ذمہ سے تعامل بھی ملاحظہ کریں:
" قال عمر رضي الله عنه: إياكم ورطانة الأعاجم، وأن تدخلوا على المشركين يوم عيدهم في كنائسهم فإن السخطة تتنزل عليهم. رواه أبو الشيخ الأصبهاني والبيهقي
بإسناد صحيح
" عجمیوں کے اسلوب اور لہجے مت سیکھو۔ اور مشرکین کے ہاں اُن کے گرجوں میں ان کی عید کے دن ان پر خدا کا غضب نازل ہوتا ہے"
گویا غیرت دینی کا تقاضا تو یہ ہے کہ اس دن کفریہ تہوار کی جگہوں پر جانا بھی جائز نہیں
بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اسلامی ممالک میں کافروں کو سر عام کافرانہ جشن کی سربازار,شتر بے مہار اجازت دینا ہی درست نہیں اور یہ بات سخت محل نظر ہے-
(البتہ انکے مخصوص عبادت خانوں اور گھروں میں اجازت دی جائے گی )
علاوہ ازیں کفار کے تہوار میں شرکت اور مبارکباد کی ممانعت پر حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ سب متفق ہیں
(فقہ حنفی: البحر الرائق لابن نجیم ج ۸، ص ۵۵۵،
فقہ مالکی: المدخل لابن حاج المالکی ج ۲ ص۴۶۔۴۸،
فقہ شافعی:مغنی المحتاج للشربینی ج ۴ ص ۱۹۱، الفتاویٰ الکبریٰ لابن حجر الہیتمی ج ۴ ص ۲۳۸۔۲۳۹،
فقہ حنبلی:کشف القناع للبہوتی ج ۳ ص ۱۳۱)۔
فقہائے مالکیہ تو اس حد تک گئے ہیں کہ جو آدمی کفر کے تہوار پر ایک تربوز کاٹ دے وہ ایسا ہی ہے گویا اُس نے خنزیر ذبح کر دیا۔ (اقتضاء الصراط المستقیم ص ۳۵۴)
میرے پیارے بھائیوں ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ذیادہ خوش اخلاق کون ہوسکتا ہے کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکی اور مدنی زندگی میں کبھی ایسے کیا... ؟؟؟
کرسمس‘‘ ایسے معلوم شعائرِ کفر سے دور رہنا تو فرض ہے ہی، ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ایک مسلمان اس ملتِ کفر سے کامل بیزاری کرے۔کرسمس‘‘ ایسے معروف نصرانی تہوار کو محض ایک ’سماجی تہوار‘ کہہ کر اس کے لئے جواز پیدا کرنا گمرا کن ہے جواز کے یہ سارے فتوے صرف دور زوال کی یادگار ہیں ,یہ اخلاق نہیں بلکہ مداہنت کا مظہر ہیں-
چنانچہ کفار کے مذہبی تہواروں میں شامل ہونا انکے تہواروں کواچھا سمجھنااور انہیں مبارک باد دیناجیسے اعمال اسلام کو گرانے کے مترادف ہےانکے کفریہ عقائد کی تائید ایک مسلمان کے لئے کفر کے زمرے میں آتا ہے-اسلئے ایسے تمام باطل کافرانہ افعال میں شامل ہونے سے پرہیز کریں-
حسن اخلاق، رواداری اور تقسطوا الیہم پر عمل کے لیے باقی سارا سال پڑاہے-

Friday, December 21, 2018

::: خطرناک سازش کا حصہ نہ بنیں ::: تقریباً سب ہی لوگوں کو یہ بات بخوبی معلوم ہے کہ دیوبندی مسلک کی جتنی بھی مذہبی یا سیاسی جماعتیں ہیں ، وہ سب کی سب " تبلیغی جماعت " کے ساتھ منسلک ہیں ، اور ان کا اس حوالہ سے باہم کوئی اختلاف نہیں ہے اور نہ ہی ان جماعتوں نے " تبلیغی جماعت " کے کسی کام میں کبھی مداخلت کی کوشش کی ہے ، بلکہ سب ہی اس جماعت کے بارہ میں ہمیشہ سے رطب اللسان اور مؤید رہے ہیں


::: خطرناک سازش کا حصہ نہ بنیں :::



تقریباً سب ہی لوگوں کو یہ بات بخوبی معلوم ہے کہ دیوبندی مسلک کی جتنی بھی مذہبی یا سیاسی جماعتیں ہیں ، وہ سب کی سب " تبلیغی جماعت " کے ساتھ منسلک ہیں ، اور ان کا اس حوالہ سے باہم کوئی اختلاف نہیں ہے اور نہ ہی ان جماعتوں نے " تبلیغی جماعت " کے کسی کام میں کبھی مداخلت کی کوشش کی ہے ، بلکہ سب ہی اس جماعت کے بارہ میں ہمیشہ سے رطب اللسان اور مؤید رہے ہیں ، لیکن اس کے باوجود بھی حال ہی میں مبلغِ اسلام حضرت مولانا طارق جمیل صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ کے حکومتِ وقت کے حق میں ایک ذاتی اور متنازعہ بیان کی آڑ میں بعض بدطینت لوگ موقع سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے " تبلیغی جماعت " اور " جمعیۃ علماء اسلام " کو مدِ مقابل باور کرانے کی خطرناک سازش میں ملوث ہیں ، اور اس ضمن میں وہ اکابر علماء کرام کو بھی طعن و تشنیع کا نشانہ بنا رہے ہیں ، ان پر تو کوئی گلہ ہی نہیں کہ ابن الوقت قسم کے لوگوں کا شیوہ ہی یہ ہے کہ وہ اپنا مفاد موقع بموقع ڈھونڈتے رہتے ہیں ، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ " جمعیۃ علماء اسلام " کے بعض جذباتی کارکن بھی ان شر پسندوں کے ہاتھوں استعمال ہو کر ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے میں مصروفِ عمل ہیں ، میں ان دوستوں سے یہی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ " تبلیغی جماعت " اور اس کے اکابرین کے بارہ میں طعن و تشنیع سے حتی الوسع گریز کریں ، اس سے دوسروں کا نہیں بلکہ اپنا ہی نقصان ہوگا ، دوسرے تو ایسی باتوں پر بغلیں بجائیں گے کہ ان کا مشن مفت میں کامیاب ہو گیا ۔
دوستو ! ان کے اسی پر فریب مشن کو تو ہم نے ناکام بنانا ہے ، وہ ہماری توجہ اصل مقاصد سے ہٹا کر ان بکھیڑوں میں ہمیں الجھانا چاہتے ہیں ، اس لئے اس نازک ترین موقع پر جوش کے ساتھ ہوش کے ناخن لینے کی بھی اشد ضرورت ہے ، ہماری درخشاں تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ " جمعیۃ علماء اسلام " اور " تبلیغی جماعت " کے اکابرین ہمیشہ سے باہم شِیر و شکر رہے ہیں اور ان شاء اللہ العزیز ہمیشہ یکجان ہی رہیں گے ، اس لئے ہمیں اپنے منفی رویوں اور نفرتوں سے ان میں مزید دراڑیں ڈالنے کی بجائے اس خلیج کو باہم محبت و اخوت سے جلد ہی پاٹنے کی کوشش کرنی چاہئے ، یہ دونوں جماعتیں ایک ہی گاڑی کے دو پہیے ہیں ، اگر ان میں سے ایک بھی اتر گیا تو گاڑی نہیں چلے گی ، اور عالمی سامراج کا منشاء بھی یہی ہے ۔
بانی تبلیغی جماعت حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی رح نے ایک موقع پر " جمعیۃ علماء ہند " کے سیاست میں حصہ لینے والے اکابرین کا صرف اس لئے شکریہ اداء کیا تھا کہ آپ لوگ حکومتِ وقت سے بر سرِ پیکار رہے اور انہیں اپنی طرف متوجہ رکھا ، جس کی بدولت ہمیں سہولت سے دعوت و تبلیغ کے کام کا موقع ملتا رہا ۔
اور انہوں نے ہی ایک موقع پر شیخ العرب و العجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رح کے متعلق یہ ارشاد فرمایا تھا کہ اگر ان سے کسی وقت سیاست کا کام چھوٹ گیا تو وہ بھی وہی کام کریں گے جو میں کر رہا ہوں اور اگر مجھ سے کبھی تبلیغ کا کام چھوٹ گیا تو میں بھی وہی کروں گا جو مولانا مدنی کر رہے ہیں ، حتی کہ انہوں نے یہ جرات مندانہ بیان دینے سے بھی دریغ نہیں کیا تھا کہ " گانگریس " کے ساتھ کام کرنے کے جواز میں کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں ، بلکہ میرے لئے مولانا مدنی ہی اس کی دلیل کافی ہیں ۔
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی رح کا یہ واقعہ میں نے بزرگوں سے سنا ہے کہ وہ قیامِ پاکستان کے بعد ایک موقع پر یہاں تشریف لائے تو اکابرینِ جمعیۃ سے انہوں نے جمعیۃ کا فارم رکنیت پُر کرنے کی خواہش کا اظہار فرمایا ، ان سے کہا گیا کہ آپ تو دوسرے ملک کے باشندہ ہیں ، آپ کو اس سے کیا فائدہ ہو گا ؟ تو انہوں نے اس کا بڑا ہی دلربا جواب ارشاد فرمایا کہ مجھے دنیا میں اس کا فائدہ ہو یا نہ ہو میں تو صرف اس لئے اسے پُر کرنا چاہتا ہوں کہ کل قیامت کے دن میں خدا کی بارگاہ میں یہ فارم دکھا سکوں کہ میرا تعلق بھی مولانا احمد علی لاہوری رح اور ان کی جماعت کے ساتھ تھا ۔
آج جناب خورشید ندیم صاحب کا کالم پڑھ کر نہایت ہی افسوس ہوا کہ انہوں نے بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا بلکہ موجودہ تنازعہ کی آڑ میں انہوں نے بھی مولانا محمد زکریا رح کو غیر محسوس طریقہ سے حکومتِ وقت سے ڈر جانے والا یعنی بزدل اور ڈرپوک ظاہر کرنے کی جسارت کی ہے ، اگر انہوں نے مولانا محمد زکریا رح کی کتب کا بنظرِ غائر مطالعہ کیا ہوتا تو شاید وہ ایسا کبھی نہ لکھتے ، اور انہیں پتہ چلتا کہ انہوں نے حنفیت اور دیوبندیت کا کتنا دلیرانہ و جرات مندانہ دفاع کیا ہے اور پھر اپنی عملی زندگی میں بھی انہوں نے اپنے دور کے سیاسی علماء سے کتنا گہرا قلبی تعلق رکھا ہے ، ان کی جتنی بے تکلفی حضرت مدنی رح سے تھی شاید ہی کسی اور سے ہو ۔
وہ جب حدیث کی عربی شرح لکھنے لگے تھے تو تبلیغی جماعت کے امیر حضرت جی مولانا محمد یوسف کاندھلوی رح نے ان سے فرمایا تھا کہ حنفی مسلک کو اس میں ڈھیلا نہ لکھنا ، ذرا ٹائٹ کر کے لکھنا ، چنانچہ ان کی یہ شرح ایک قابلِ قدر شرح ہے ، جس سے روئے زمین کے علماء و صلحاء رہتی دنیا تک استفادہ کرتے رہیں گے ۔
آپ کو ایک بڑی ہی دلچسپ اور معلوماتی بات بتاؤں کہ ہمارے استاد الاستاد حضرت مولانا مفتی عبد الواحد سہالوی رح بیک وقت گوجرانوالہ میں " تبلیغی جماعت " اور " جمعیۃ علماء اسلام " دونوں جماعتوں کے امیر رہے ہیں ، اس لئے 

- کون کہتا ہے کہ ہم میں ، تم میں جدائی ہوگی
یہ ہَوائی بھی کسی دشمن نے ہی اڑائی ہوگی

صوبہ بلوچستان ، خیبر پختونخواہ اور سندھ کے بیشر لوگ اب بھی بیک وقت دونوں جماعتوں میں کام کر رہے ہیں ، اگر وہ جماعت کے ساتھ وقت لگاتے ہیں تو الیکشن میں جمعیۃ کو ووٹ بھی دیتے ہیں ، یہ باہمی محبتوں اور الفتوں کا ایک تاریخی اور مربوط تسلسل ہے ، موجودہ دور میں بھی تبلیغی جماعت کے حال ہی میں وفات پانے والے امیر حاجی عبد الوہاب رح اور دیگر اکابر کا تعلق و ربط قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمٰن حفظہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی سے کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ۔
اس لئے میری تمام دیوبندی حضرات سے عموماً اور جمعیۃ علماء اسلام کے احباب سے خصوصاً درخواست ہے کہ اس تنازعہ میں باہم سر پھٹول میں وقت ضائع نہ فرمائیں بلکہ آپس میں اتفاق و اتحاد سے اپنے اصل نشانِ منزل کی طرف سبک رفتاری سے گامزن رہیں ۔
اللہ کریم ہی ہم سب کا حامی و ناصر ہو ، آمین بجاہ النبی الامین ۔

Wednesday, December 19, 2018

مسلمان سائنسدانوں کا مختصر تذکرہ......! 🍢عالمی دجالی استعمار کے وحشت و سربریت کا نشانہ بننے والے بیسویں صدی کے اعلٰی دماغ نامور عظیم مسلمان سائنسدان،، جو تاریک راہو میں ایسے ماردیئے گیئے یا زندہ غائب کر دہیے گئے کہ انکی قتل کی حکمت عملیوں کا معاملہ کسی بہت بڑی پلاننگ کا شاخسانہ قرار دیاگیا اورآج تک ان سب کے قتل کا معمہ واضح حل نہیں ھوپایا-


مسلمان سائنسدانوں کا مختصر تذکرہ......!
🍢عالمی دجالی استعمار کے وحشت و سربریت کا نشانہ بننے والے بیسویں صدی کے اعلٰی دماغ نامور عظیم مسلمان سائنسدان،، جو تاریک راہو میں ایسے ماردیئے گیئے یا زندہ غائب کر دہیے گئے کہ انکی قتل کی حکمت عملیوں کا معاملہ کسی بہت بڑی پلاننگ کا شاخسانہ قرار دیاگیا اورآج تک ان سب کے قتل کا معمہ واضح حل نہیں ھوپایا-
اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ مسلمان سائنسدانوں کو ناجائز اور غاصب ریاست اسرائیل نے قتل کیا ہے. ان سائنسدانوں میں اکثر کا تعلق طبعیات، جوہری توانائی یا دفاع سے تھی-
مسلمان سائنسدانوں کی قتل کا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے، جو کہ اسرائیل کے بدنام زمانہ انٹیلی جنس ایجنسی موساد انجام دیتا ہے. رواں برس کے دوران اب تک پانچ مسلمان سائنسدانوں کے قتل کا انکشاف سامنے آیا ہے، جن میں 21 اپریل 2018 کو قتل ہونے والے فلسطینی راکٹ انجنیر ، کہ جسے کوالالمپور ملایشیاء میں قتل کیا گیا، 13 فروری کو حسن علی خیرالدین نامی پی ایچ ڈی انجینئر کو کینڈا میں قتل کیا گیا،28 فروری کو لبنان سے تعلق رکھنے والے فزکس کے طالب علم کو فرانس میں قتل کیا گیا، 25 مارچ کو ایک اور فلسطینی نوجوان سائنسدان کو اسرائیلی فوجیوں نے قتل کیا، موساد کی طرف سے مسلم سائنسدانوں کی قتل کا یہ سلسلہ کافی پرانا ہے. ان میں کچھ مندرجہ ذیل ہیں. حسن رمال فزکس کے میدان کے مانے ہوئے سائسدان جنہیں 1991 میں قتل کیا گیا . سعید بدیر میزائل ٹیکنالوجی میں ماہر تھے انہیں 1989 میں قتل کیا گیا. سمیر نجیب نامی مصری سائنسدان ایٹمی ٹیکنالوجی میں معروف تھے انہیں 1967 میں قتل کیا گیا. سلوی حبیب نامی محققہ جو صہیونی سازشوں کو بے نقاب کرتی تھی ، انہیں اپنے ہی فلیٹ میں بیدردی سے ذبح کیا گیا،حسن کامل الصباح لبنانی سائنسدان جنہیں عرب کا ایڈیسن کہا گیا تھا انہیں امریکہ میں قتل کیا گیا. مصطفی مشرفہ نامی ماہر فزکس کو زہر دیکر فرانس میں قتل کیا گیا. ڈاکٹر نبیل القلینی نامی سائنسدان جن کا تعلق مصر سے تھا انہیں 1975 میں اس طرح جبری لاپتہ کیا گیا ہے کہ آج تک ان کا سراغ نہ مل سکا. ڈاکٹر سامعیہ میمنی جس کی علمی تحقیقات نے دل کی آپریشن کے سارے زاویے رکھ کہ بدل دیے ، 2005 ء میں انہیں قتل کیا اور ان کے ایجاد کردہ آلے اور علمی تحقیقاتی مسودات بھی چرالیا. یحیی المشدنامی جوہری سائنسدان کو فرانس میں قتل کیا گیا. سمیرہ موسی نامی سائنسدان کہ جنہوں نے ایٹمی توانائی کے طبی مقاصد میں استعمال کیا ہے اور تحقیق کی، انہیں بھی قتل کیا گیا تھا. اس کے علاوہ ایران کے متعدد دفاعی ٹیکنالوجیس سائنسدان کو بھی موساد کی طرف سے نشانہ بنایا گیا.
آخر میں ان نام نہاد امن کے علمبردار بین الاقوامی غنڈوں سے ایک ہی سوال کہ یہ سائنسدان تو مذہبی علماء نہیں تھے یہ دہشت گرد بھی نہیں تھے تو پر انہیں کیوں مارا گیا...؟ ؟اور یہ سوال ڈیڑھ ارب مسلمانوں کا بالعموم اور نام نہاد لنڈے کے لبرلز کا بالخصوص منہ چڑا رہا ہے _😢
تفصیل تصاویر کیساتھ۔

پچھلے دونوں کینیڈا سے ایک دوست آئے ہوئے تھے۔ باتوں باتوں میں ان سے پوچھا کہ آپ کی آمدن پر انکم ٹیکس کتنا کٹتا ہے؟ جواب ملا: یوں سمجھ لیں کہ چالیس پینتالیس پرسنٹ تنخواہ مختلف ٹیکسوں کی مد میں کٹ جاتی ہے۔ یہی بات میں نے امریکہ، یورپ اور ملائشیا کے بارے میں بھی سنی ہے۔


پچھلے دونوں کینیڈا سے ایک دوست آئے ہوئے تھے۔ باتوں باتوں میں ان سے پوچھا کہ آپ کی آمدن پر انکم ٹیکس کتنا کٹتا ہے؟ جواب ملا: یوں سمجھ لیں کہ چالیس پینتالیس پرسنٹ تنخواہ مختلف ٹیکسوں کی مد میں کٹ جاتی ہے۔ یہی بات میں نے امریکہ، یورپ اور ملائشیا کے بارے میں بھی سنی ہے۔
دبئی میں کاروبار کرنے والے مسٹر پیٹر، جو کہ ہالینڈ سے تھے، ان سے میں نے ایک دن پوچھا کہ آپ ہالینڈ میں کیوں کاروبار نہیں کرتے؟ کہنے لگے وہاں ٹیکسز بہت زیادہ ہیں، جب کہ دبئی میں سب خرچہ ملا کر پندرہ بیس پرسنٹ بنتا ہے۔
جدید دؤر کی کارپوریٹ ورلڈ اور سرمایہ داران نظام کی ایک بڑی خامی یہ ہے کہ وہ، لوگوں کی خون پسینے سے کمائی جانے والی دولت کے ایک بڑے حصے پر قبضہ جما لیتے ہیں۔ تصور کریں کہ ایک سو ڈالر میں سے اگر آپ کو صرف پچاس ساٹھ ڈالر معاوضہ ملے، باقی ’ویلفیئر‘ کے نام پر کاٹ لیا جائے تو آپ کیا محسوس کریں گے پھر یہ عمل، زندگی میں ایک بار نہیں، سال میں ایک بار نہیں بلکہ ہر تنخواہ ملنے پر دہرایا جاتا ہو تو اذیت و تکلیف کی انتہا کو وہی سمجھ سکتے ہیں جو دن رات محنت کرکے، خون پسینہ بہا کر رزق حاصل کرتے ہیں۔
اس کے برعکس، اسلام اپنے ماننے والوں سے صرف ان کی آمدنیوں کا ڈھائی فیصد طلب کرتا ہے وہ بھی دولت کا ایک حد عبور کرنے کے بعد۔ یقین جانیں کہ اگر آج ترقی یافتہ ملکوں میں بھاری ٹیکسز دینے والےعوام کو اسلام کی صرف اس ایک خوبی کا علم ہو جائے تو لوگ دیوانہ وار کھچے چلے آئیں گے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ اسلام اپنی تمام دیگر تفصیلات اور جزئیات کے ساتھ، ایک نظام کی صورت کہیں کسی سرزمین پر موجود ہو۔ اس کے بعد ’’ڈھائی فیصد‘‘ والی بات دنیا کے انسانوں کے لیے ’’اینٹری پوائنٹ‘‘ یا ’’گیٹ وے‘‘ ثابت ہو سکتی ہے۔