Friday, January 4, 2019

اللّٰہ پاک کی شان دیکھیے وائس آف امریکہ نے علامہ اقبال کے اس شعر کا مذاق اڑایا تھا کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ, مؤمن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی,


اللّٰہ پاک کی شان دیکھیے 

وائس آف امریکہ نے علامہ اقبال کے اس شعر کا مذاق اڑایا تھا

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ,
مؤمن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی,

2002 میں اس شعر پر تبصرہ کرتے ہوئے وائس آف امریکہ voa نے کہا تھا کہ ”چلو ہم دیکھتے ہیں کہ اقبال کے یہ بے تیغ سپاہی کب تک امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ لڑ سکتے ہیں“

آج اقبال کے بے تیغ سپاہیوں نے ثابت کردیا کہ ”ایمان“ ہی اصل ہتھیار ہے۔

یہ ہے اسلام اور جہاد کی طاقت اور ایک مجاہد کی شان
سُبحان اللّٰہ
تصویر میں اقبال کے شاہنوں کی طرف سے سپر پاور کو دی گئی سلامی۔ 💪 
سپر پاور کی ٹانگیں اوپر۔۔

Wednesday, January 2, 2019

( واپس آؤ اسلام کی طرف ) ہلاکو خان کی بیٹی بغداد میں گشت کررہی تھی کہ ایک ہجوم پر اس کی نظر پڑی۔ پوچھا لوگ یہاں کیوں اکٹھے ہیں؟ جواب آیا:


( واپس آؤ اسلام کی طرف )
ہلاکو خان کی بیٹی بغداد میں 
گشت کررہی تھی کہ
ایک ہجوم پر اس کی نظر پڑی۔
پوچھا لوگ یہاں کیوں اکٹھے ہیں؟
جواب آیا:
ایک عالم کے پاس کھڑے ہیں۔ 
اس نے عالم کو اپنے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا۔ 
عالم کو تاتاری شہزادی کے سامنے لا کر حاضر کیا گیا۔
شہزادی
مسلمان عالم سے سوال کرنے لگی: 
کیا تم لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے؟
عالم: 
یقیناً ہم ایمان رکھتے ہیں
شہزادی:
کیا تمہارا ایمان نہیں کہ 
اللہ جسے چاہے غالب کرتا ہے؟
عالم: 
یقیناً ہمارا اس پر ایمان ہے۔
شہزادی: 
تو کیا اللہ نے آج ہمیں 
تم لوگوں پر غالب نہیں کردیا ہے؟
عالم: 
یقیناً کردیا ہے-
شہزادی: 
تو کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ 
خدا ہمیں تم سے زیادہ چاہتا ہے؟
عالم: 
نہیں
شہزادی: 
کیسے؟
عالم: 
تم نے کبھی چرواہے کو دیکھا ہے؟
شہزادی:
ہاں دیکھا ہے
عالم:
کیا اس ریوڑ کے پیچھے چرواہے نے 
اپنے کچھ کتے رکھے ہوتے ہیں؟
شہزادی: 
ہاں رکھے ہوتے ہیں۔
عالم:
اچھا تو اگر کچھ بھیڑیں چرواہے کو 
چھوڑ کر کسی دوسری طرف کو نکل کھڑی ہوں،
اور چرواہے کی سن کر واپس آنے کو تیار ہی نہ ہوں،
تو چرواہا کیا کرتا ہے؟
شہزادی:
وہ ان کے پیچھے اپنے کتے دوڑاتا ہے 
تاکہ وہ ان کو واپس اس کی کمان میں لے آئیں۔
عالم: 
وہ کتے کب تک ان بھیڑوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں؟
شہزادی:
جب تک وہ فرار رہیں اور چرواہے کے
اقتدار میں واپس نہ آجائیں۔
عالم نے کہا :
تم تاتاری لوگ زمین میں ہم مسلمانوں کے
حق میں خدا کے چھوڑے ہوئے کتے ہو
جب تک ہم خدا کے در سے بھاگے رہیں گے
اور اس کی اطاعت اور اس کے منہج پر نہیں آجائیں گے، تب تک خدا تمہیں ہمارے پیچھے دوڑائے رکھے گا، 
اور ھماری گردنوں پر مسلط رکھے گا 
جب ہم خدا کے در پر واپس آجائیں گے 
اُس دن تمہارا کام ختم ہوجائے گا۔
آج پھر وہی حال ہے 
آج کتے ہم پر مسلط ہیں
یہودیوں عیساٸیوں، مشرکوں، ملحدوں اور لبرل کی صورت میں
اور جب تک ہم واپس نہ آجاٸیں اسلام کی طرف
تب تک ہم پر مسلط رہیں گے۔۔۔

عورت کا تحفظ حجاب میں اور خوبصورتی حیاء میں ہے ارشاد ربانی ہے ’’اے نبی ﷺ اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں کو اورمومنوں کی عورتوں کو فرما دے کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لیا کریں یہ قریب تر ہے ہے کہ انکی پہچان ہو جائے اور اﷲ بخشنے والا نہایت مہربان ہے”( سورۃ احزاب) عورت کے معنی چھپی ہوئی چیز کے ہیں۔عورت چونکہ ایک ڈھکی چھپی چیز ہے اور اس کو جتناچھپاؤ گے اتنی ہی اسکی عزت بنے گی، اتناہی اسکے وقار میں اضافہ ہو گا ۔



عورت کا تحفظ حجاب میں اور خوبصورتی حیاء میں ہے

ارشاد ربانی ہے
’’اے نبی ﷺ اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں کو اورمومنوں کی عورتوں کو فرما دے کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لیا کریں یہ قریب تر ہے ہے کہ انکی پہچان ہو جائے اور اﷲ بخشنے والا نہایت مہربان ہے”( سورۃ احزاب)

عورت کے معنی چھپی ہوئی چیز کے ہیں۔عورت چونکہ ایک ڈھکی چھپی چیز ہے اور اس کو جتناچھپاؤ گے اتنی ہی اسکی عزت بنے گی،
اتناہی اسکے وقار میں اضافہ ہو گا ۔

عورت جب تک چھپی رہے گی اسکی معصومیت اور حسن برقرار رہے گا۔ ڈھکی ہوئی چیز ہر ایک کو اچھی لگتی ہے۔

*عورت کی مثال*

ایک مرتبہ ایک بزرگ نے ایک محفل میں اپنی بند ہتھیلی کوسب کی طرف کر کے دریافت فرمایا میرے ہاتھ میں کیا ہے۔؟

کچھ نے جواب دیا شائد آپ کے ہاتھ میں ہیرے جواہیرات ہیں،

پھر ایک صاحب سے پوچھا انہوں نے بھی کچھ سوچ کے بعد جواب دیا :- شائد سونا ہے۔

پھر پوچھنے پر ایک نے جواب دیا کہ آپ کے ہاتھ میں اگر ہیرے جواہیرات نہیں اور سونا بھی تو یقینا چاندی یا کوئی قیمتی چیز ہوگی۔

تب ان بزرگ نے اپنے ہاتھ کو کھولا تو ان کے ہاتھ پر چند کنکریا تھی سب حیران رہ گئے۔

*حاصل کلام:- عورت کی مثال اس بند مٹھی کی طرح کی اگر وہ بند ہے (یعنی باپردہ) ہے تو ہیرے جواہیرات، سونا چاندی اور اس کی بیش بہا قیمت ہے لیکن اگر وہ مٹھی کی طرح کھل جائے ( بے پردہ ہوجائے ) تو وہ بے وقعت پتھر اور کنکریوں کی مانند ہے جس کی کوئی عزت اور قیمت نہیں​۔*

جیسے ڈھکی ہوئی چیز کھلتی ہے تو اسکا حسن ماند پڑنے لگ جاتا ہے۔ اس لیے اسلام نے عورت کو پردے کا حکم دیا ہے تاکہ لوگ اسکی عزت کریں۔

اسے قدر کی نگاہ سے دیکھیں اور معاشرے میں عورت کا وقار قائم رہے۔
کائنات کے رنگوں کو عورت سے تعبیر کیا گیا ہے۔
بیٹی کی صورت میں گھر کی چہکار ،
بہن کی صورت میں گھر کی رونق ،
بیوی کی صورت میں سکون ,,
اور ماں کی صورت میں خالص محبت ہے لیکن اب ہم نے ان باتوں کو بھلا دیا ہے۔
عورت جس کا نام ہی پردہ ہے۔ آج وہ اپنا حجاب بھول کر فیشن میں کھو گئی ہے۔ بے پردگی کو اپنا عروج ماننے لگی ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے ہم نے بے پردگی کو اپنا کر نہ صرف مغربی تہذیبوں کو فروغ دیا ہے بلکہ حجاب کے تقدس کو پامال کیا ہے اور وقار نسواں کو بھی مجروح کیا ہے۔
جب عورت پردے میں ہوتی ہے تو دیکھنے والے کی نگاہیں خود بخود ہی احترام میں جھک جاتی ہیں۔
عورت پردہ کر کے اپنا احترام خود کرواتی ہے۔ بے پردہ چیز کو تو ہر کوئی دیکھے گا ۔اس لیے اسلام میں عورت کو پردے کا سختی سے حکم ہے

ایک مضبوط اور پاکیزہ معاشرہ کی بنیاد ایک مضبوط و پاکیزہ خاندان ہے ، اور ان دونوں معاشرہ و خاندان کی پاکیزگی و پاکدامنی کی سب سے اہم بنیاد عورت ہے۔
عورت کی عزت، اس کا وقار، اس کی سربلندی ہی معاشرہ کی ترقی کا ضامن ہے۔
کسی قوم و معاشرہ کیلئے عورت ہی کُل سرمایہ ہوتی ہے۔
اگر عورت پاکیزہ و پاکدامن ہوتو یقینا وہ پورا معاشرہ بھی پاکیزہ و پاکدامن ہو گا۔ا

#حیاء

حیا اللہ تعالی کی صفت ہے، اس کا ذکر کتاب و سنت میں موجود ہے، حیا تمام تر اخلاقی اقدار کا سرچشمہ ہے،
حیا انسان کو برائی سے روکتی ہے اور اچھے کاموں کی ترغیب دلاتی ہے،
حیا ان اخلاقی اقدار میں شامل ہے جو اولین زمانۂ نبوت سے معتبر اور مطلوب ہیں،
حیا سے اشرف المخلوقات سمیت فرشتے بھی موصوف ہیں، آدم، نوح، موسی سمیت تمام کے تمام انبیائے علیہم السلام حیا سے آراستہ تھے.

ہمارے نبی ﷺ سب سے زیادہ با حیا تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے فرشتے بھی حیا کرتے تھے،
حیا خواتین کا فطری زیور اور زینت ہے، اسی لیے سیدہ عائشہ اور دیگر صحابیات حیا کی پیکر تھیں،

نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق حیا سرتا پا خیر ہی خیر ہے، حیا کی وجہ سے ہمیشہ خیر ہی برآمد ہوتی ہے،
حیا کی بدولت انسان اچھے اخلاق کا عادی بن جاتا ہے، حیا چھن جائے تو یہ ایمان چھن جانے کی علامت ہوتی ہے، اور جب حیا ہی نہ رہے تو انسان جو چاہے کرتا جائے.

اگر انسان گناہ کرے تو اس سے حیا میں کمی آ جاتی ہے، حیا کسی بھی چیز میں پائی جائے تو اسے خوبصورت بنا دیتی ہے،

جو شخص اللہ تعالی سے حیا کرے تو اللہ تعالی بھی اس کی لاج رکھ لیتا ہے،
حیا کا اعلی ترین درجہ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالی سے حیا کرے، حیا ایک نور ہے جو انسان کو خلوت و جلوت میں استقامت پر مجبور کرتا ہے،
دل میں حیا پختہ کرنے کیلیے اللہ تعالی کی نعمتوں اور احسانات کو یاد کریں اور اس کے مقابلے میں اپنی کارستانیوں کو مد نظر رکھیں۔

Saturday, December 29, 2018

نواز شریف بمقابلہ زرداری.....! زرداری اور نوازشریف کی کرپشن میں زمین اسمان کا فرق ھے نوازشریف چونکہ ایک بزنس مین ھے اس لئے اس نے بہت ٹیکنکل طریقے سے کرپشن کی ھے جس کا سراغ لگانا یا اسے پکڑنا بہت مشکل تھا

نواز شریف بمقابلہ زرداری.....! 
زرداری اور نوازشریف کی کرپشن میں زمین اسمان کا فرق ھے
نوازشریف چونکہ ایک بزنس مین ھے اس لئے اس نے بہت ٹیکنکل طریقے سے کرپشن کی ھے جس کا سراغ لگانا یا اسے پکڑنا بہت مشکل تھا
نوازشریف کا طریقہ کرپشن اس طرح تھا کہ اس نے ملک میں بڑے بڑے پراجیکٹ لانچ کئے اس میں دو فائدے تھے ایک تو یہ کہ لوگوں کو اس پراجیکٹ سے فائدہ ملتا تھا اور دوسرا یہ کہ کمیشن بھی زیادہ ملتا تھا اور کوئی ثبوت بھی نہیں ھوتا تھا 
جو لوگ ٹھیکیداری کرتے ہیں یا سی این ڈبلیو میں ملازمت کرتے ہیں وہ میری بات اسانی سے سمجھ جائیں گے
مثلا موٹرے کھربوں کا منصوبہ تھا اس لئے اس میں بہت تگڑی کمیشن ملی اس طریقے میں یہ ھوتا ھے کہ کنٹریکٹر سے زبانی وعدہ کیا جاتا ھے کہ فلاں ٹھیکہ میں اپ کو دونگا مگر اس میں مجھے اتنے فیصد کمیشن دو گے
مثلا 50 ارب کا ٹھیکہ ھو تو 5 سے دس ارب کی کمیشن اسانی سے مل جاتی ھے وہ بھی بغیر کسی تحریری معاہدے کے جس کا کوئی ثبوت بھی نہیں ھوتا اور چونکہ زمین پر وہ پراجیکٹ نظر بھی اتا ھے اس لئے لوگ کرپشن کو نظرانداز کرکے منصوبے سے مستفید رہتے ہیں اب اپ نوازشریف کے سارےمنصوبوں کے بارے میں سوچو تو بات سمجھ آ جائے گی۔
"اس لئے تو پٹواری کہتے ہیں کہ کھاتا بھی ھے تو لگاتا بھی تو ھے"
اپ نے سنا ھوگا کہ نوازشریف کہتا ھے کہ مجھ پر کرپشن ثابت کرو میرے اثاثے اگر امدن سے زیادہ ھے تو تمہیں اس سے کیا ان کو پتہ ھے کہ میرے کرپشن کا کوئی ثبوت موجود نہیں ھے۔ اور پٹواریوں کو اسی بیانئے سے وہ بیوقوف بنا رہا بےکہ دیکھو مجھ پر کرپشن ثابت نہیں ھوئی۔
مشہور مثال ھے کہ چور چاہے جتنا بھی ہوشیار ھو وہ کوئی نہ کوئی سراغ ضرور چھوڑ جاتا ھے، اور نواز شریف کے کیس میں بھی ایسا ہوا -
وہ اس طرح کہ سپریم کورٹ نے نوازشریف کو بڑے ٹیکنکل طریقے سے پھنسایا ان کے اثاثوں کے بارے میں سوالات پوچھے تھے کہ اپ کی زریعہ آمدن کیا ھے اور جائداد کتنا ھے مطلب نواز شریف کو امدن سے زیادہ اثاثے رکھنے کے جرم میں سزا ھوئی
کیونکہ سپریم کورٹ اور نیب کو پتہ تھا کہ اس کے خلاف کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں ملے گا کیونکہ ان کی ساری کرپشن کمیشن اور کک بیکس کے زریعے ہوئی تھی
نوازشریف کے کیس میں صرف ان کا خاندان پھنس گیا اور اس کا اثر ن لیگ پر نہیں پڑا
جبکہ زرداری ایک عام سا چور اچکا ھے اس نے ایسے کرپشن کی ھے کہ سارے ثبوت موجود ھے
ھوا یہ کہ زرداری نے نہ کوئی بڑا پراجیکٹ بنایا ھے اور نہ کمیشن لیا ھے بلکہ اس نے لینڈ مافیا (ملک ریاض) کے ساتھ مل کر زمینیں ہتھیائی ھے جس کا ریکارڈ بھی موجود ھے اور زمین بھی اپنی جگہ موجود ھے اب زمین کو انسان چھپا بھی نہیں سکتا ۔
جبکہ منی لانڈرنگ کے لئے جعلی اکاونٹ بنائے تھے جس کی ساری ٹرانزیکشن بینکوں میں موجود ھے اومنی گروپ اور سمٹ بینک کا سارا ریکارڈ بھی موجود ھے ان کو کیا پتہ تھا کہ ایک دن ان جعلی اکاونٹس کا کسی کو پتہ لگے گا
جے ائی ٹی نے بہت اسانی سے سارا کچھ ٹریس کر لیا کیونکہ اپ سب کو پتہ ھے کہ بینکوں کا سارا نظام کمپیوٹرائز ھوتا ھے اور کمپیوٹر ریکارڈ محفوظ ھوتا ھے
زرداری نے خود بھی پیسہ بنایا اور اپنی ساری پارٹی ممبران کو بھی کھلایا ھے وہ بھی اسی بھونڈے طریقے سے-
اس لئے اپ سب یاد رکھو کہ پیپلزپارٹی کی 70 فیصد قیادت اس کیس میں جیل جائے گی مطلب پیپلزپارٹی ختم ھو جائے گی کیونکہ ان کے سارے بڑے لیڈران اس جعلی اکاونٹس کیس میں پکڑے جائیں گے ۔
اگے ایک دو مہینوں میں سب کچھ اپ اپنی انکھوں سے دیکھ لو گے۔۔ انشاء اللہ

Tuesday, December 25, 2018

بالآخر حق جیت گیا اور باطل ہار گیا۔ اللّٰہ سبحانہ و تعالٰی اپنے کتاب میں فرماتے ہیں : "بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے"


بالآخر حق جیت گیا اور باطل ہار گیا۔
اللّٰہ سبحانہ و تعالٰی اپنے کتاب میں فرماتے ہیں :
"بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے"
كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ مَعَ الصَّابِرِينَ ﴿٢٤٩﴾ سورہ البقرہ
تقریبا ایک ماہ پہلے امریکہ کے چیٸر مین جواٸنٹ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل جوزف ڈن فورڈ نے افغان جنگ میں شکست کا اعتراف کرتے ہوٸے کہا تھا کہ 17 سالہ جنگ کے بعد بھی طالبان نہایت مضبوط پوزیشن میں ہیں انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں افغان معاملے پر لگی لپیٹی بات کرنے کی بجاٸے طالبان کی مضبوط پوزشن تسلیم کرلینا چاہیے،
اب ٹھیک ایک ماہ بعد امریکی صدر نے شام سے فوجی انخلا کے بعد افغانستان سے اپنی افواج واپس بلانے کا اعلان کیا ہے-
جنگوں کی تاریخ میں مراد اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنا اور مد مقابل کے مطالبات کو تسلیم کرنا شکست کہلاتا ہے، آج امریکہ اور اس کے اتحادی مزاکرات کے ٹیبل سے محفوظ راستے( save exit) کے متلاشی ہیں کیونکہ افغانی تاریخ سے واقف ہر شخص کو معلوم ہے کہ افغانستان ہمیشہ بیرونی طاقتوں کے لیے قبرستان ثابت ہوا ہے،
آج امریکہ 48 ممالک کے نیٹو اتحاد سے مل کر مٹی بھر جنگی وساٸل نہ رکھنے والے نہتے طالبان سے شکست و ہزیمت اٹھا کر واپس لوٹ رہا ہے، اور رہتی دنیا تک یہ پیغام چھوڑ کر جا رہا ہے کہ جنگیں لڑنے اور جیتنے کے لیے صرف جدید ٹیکنالوجی اور جنگی وساٸل ہی نہیں بلکہ مستقل مزاجی اور قوت ایمانی بھی ضروری ہے،
امریکی شکست کا اندازہ اس بات سے لگایا جائے کہ وہ طالبان جس کی سروں کی قیمت لاکھوں ڈالر لگائے گئے تھے آج اسی طالبان کو پورے افغانستان میں فری ہینڈ دے دیا گیا کہ وہ جہاں چاہیں مرضی سے آ جا سکتے ہیں اور ان پر افغانستان کی حکومت کسی بھی قسم کی پابندی عائد نہیں کر پائے گی۔ آج امریکہ طالبان سے مزاکرات کی ٹیبل پر آکر اپنی شکست ماننے پر مجبور ھوگیا ہے جس کی ایک مثال امریکی وزیر دفاع جان میٹس کا استعفیٰ ہے۔وہ امریکہ جو پاکستان کو ھمیشہ Do More کے نعرے لگاتا تھا، آج Help More کہنے پر مجبور ھوگیا۔۔۔وہ انڈیا جو افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے خواب دیکھتا تھا اور مسلسل دھشت گردی کی وارداتوں ملوث تھا، آج طالبان نے انڈین پُتلی افغان حکومت کو اس کمرے میں بیٹھنے نہی دیا جس میں وہ امریکہ، پاکستان،چین، سعودیہ عرب، ترکی سے مزاکرات کررھا تھا۔۔
انسانی تاریخ کی ایک طویل جنگ جس میں لاکھوں انسانی جانوں کا نقصان ھوا، امریکہ نے $1.07 ٹریلین ڈالرز جھونکے اور اپنی ہزاروں فوجی مروائے مگر افغان عوام نے برطانیہ اور روس کے بعد ایک اور سپرپاور جو جدید ٹیکنالوجی سے لیس تھا کو گُھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ۔۔۔ اس وقت مجھے مجاہد ملا عمر کی ایک مشہور کہاوت یاد آ رہی ہے کہ " اگر امریکہ کے پاس گھڑیاں ھیں تو ھمارے پاس وقت ھے۔۔۔آج امریکی اپنی گھڑیاں دیکھنا بھول چکے ھے۔
300 طالبان قیدی جیلوں سے رہا کر کے طالبان کے حوالے کر دیے گئے جس کے بدلے طالبان نے 9 امریکی فوجی پہلے مرحلے میں رہا کیے،
تاریخ میں لکھاجائے گا کہ پوری دنیا کی عظیم طاقتوں کو چند نہتے افغانیوں نے الٹ کر رکھ دیا۔ میرے خیال میں یہ شکست امریکی قوم کے لئے ایک ایسا گہرا زخم بن گیا ہے جس کے چاٹنے کے لئے امریکی نسلیں صدیوں اس کا اعتراف کریں گی -
مغربی دنیا سے مرعوب لوگوں، امریکہ کو ‘سپر پاور’ کہنے والوں۔۔ ایک کال پر سرینڈر ہوجانے والوں۔۔
دیکھو میرے اللہ کی طاقت۔۔جو سب سے سپر ہے
جن کے پاس دنیاوی طاقتوں میں سے کچھ نہیں تھا، لیکن اللہ کی مدد تھی ان کو اللہ نے فاتح بنادیا
۔
فَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بِالطَّاغُوۡتِ وَ یُؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ فَقَدِ اسۡتَمۡسَکَ بِالۡعُرۡوَۃِ الۡوُثۡقٰی لَا انۡفِصَامَ لَہَا ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿سورہ البقرہ۔۲۵۶﴾
" جو شخص طاغوت(کفر) سے انکار کرے اور اللہ تعالٰی پر ایمان لائے اس نے مضبوط سہارے کو تھام لیا جو کبھی نہ ٹوٹے گا اور اللہ تعالٰی سننے والا جاننے والا ہے ۔"
اور آخر کار باطل کو مغلوب ہونا ہے۔۔
اور یہ میرے رب کا وعدہ ہے۔۔

Monday, December 24, 2018

*چھوٹاکالم113* *امریکی فوج کی افغانستان سے واپسی* " *ایک عظیم انسان کی عظیم پیش گوئی* " عظمت کو ناپنے کے پیمانے مختلف ہوتے ہیں۔ *معاصر حکمرانوں میں سے امیرالمومنین ملا محمد عمر وہ شخصیت ہے جسے تاریخ کئی حوالوں سے یاد رکھے گی۔*


*چھوٹاکالم113*
*امریکی فوج کی افغانستان سے واپسی*
" *ایک عظیم انسان کی عظیم پیش گوئی* "
عظمت کو ناپنے کے پیمانے مختلف ہوتے ہیں۔ *معاصر حکمرانوں میں سے امیرالمومنین ملا محمد عمر وہ شخصیت ہے جسے تاریخ کئی حوالوں سے یاد رکھے گی۔*
وہ جب روس جیسی طاقت سے نپٹ کر دوبارہ اپنی کتابوں سمیت گوشہ نشین ہوئے تو علم ہواکہ *شھبازوں کا نشیمن زاغوں کے تصرف میں* آچکاہے۔ اسے دوبارہ کارزار میں اترناپڑا۔
جب وہ اندرون ملک *طوائف الملوکی* سے نپٹے تو عالمی طاقتیں ایکاکرکے ان کے ٹوٹے پھوٹے ملک پر چڑھ دوڑیں۔ وہ *مشرق کے طواغیت* سے فارغ نہ ہوئےتھے کہ *مغرب کے سورماؤں کابڑھکایاہوا آگ کادریا* ان کے سامنے تھا۔ انہوں نے ہمت نہ ہاری اور اپنے ساتھیوں کو پیغام دیا کہ *پہاڑوں میں نکل جاؤ اور ان کو نیچے آنے دو۔* *ہتھ جوڑی کامزا* تو اب آئے گا۔
*معاصردنیا کا کوئی ایساحکمران نہیں جو ان کی سیاست وتدبیرسےاور دنیاکی ترقی یافتہ فوجوں کا ایساجرنیل نہیں جو ان کی عسکریت سے شکست نہ کھاچکاہو*۔
انہوں نے نہ صرف اپنے ساتھیوں کو سنبھالے رکھا اور ان کی منتشر ٹولیوں کے ذریعے *تاریخ عالم کی طویل اور عجیب جنگ* لڑتےرہے بلکہ اپنے *مخالفین کامنہ اپنے کردار سے بند کرنے میں بھی ان کاجواب نہ تھا۔*
*ان کاخاموش جواب* ان کے *قدر شناسوں میں اضافہ اور ناقدروں کو متاثر* کرتے رھے۔
وہ *دنیا کےوہ حکمران* تھے جوہمارے اسلاف کی طرح بیک وقت *سربراہ مملکت بھی* تھے اور اپنی *سپاہ کےجرنیل بھی۔*
*ان کی آفاقی انفرادیت ہے کہ مرنے کے بعد بھی عوام کے دلوں پر حکومت کے ساتھ مجاھدین کی قیادت بھی کرتےرھے۔*
آج ان کی وہ *عظیم پیش گوئی* پوری ہوگئی ہے جو انہوں نے *بی بی سی پشتوسروس* کے نمائندے *داودجنبش* کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی تھی۔
*"امریکا کاآناوقتی گھمنڈ کے تحت ہے لیکن واپسی دائمی رسوائی کے ساتھ ہوگی۔"*
*بہادری اور دور اندیشی کے قدر داں انسانو !کہاں ہو؟*
آؤ! مل کر اس درویش مجاھد کو سلام پیش کریں جس نے اس گئے گذرے دور میں *مظلوم انسانیت کاسرفخرسے بلند کردیاہے۔*
✍مفتی ابولبابہ شاہ منصور صاحب

#غیر مسلم کی تہواروں جیسے کرسمس ہولی، دیوالی، جشنِ نوروز وغیرہ کی مبارک باد کا شرعی حکم...! اقلیتوں سے اچھے سلوک کا حکم تعامل اور ان کے ساتھ معاشرے میں رہن سہن کے طور طریقہ شریعت میں واضح ہیں تالیف قلب یا انکی خوشیوں میں شرکت کا قطعا یہ مطلب نہیں کہ انکے مذہبی تہواروں میں شرکت شروع کر دی جائے - یہ اچھا سلوک پورے سال علاوہ انکے تہواروں کے جاری رکھیں- ارشاد باری تعالیٰ ہے :گناہ کی مجلس میں شامل نہ ہو "اور حدیث مباركہ ھے.."الله كے دشمنوں سے انکے تہوار میں اجتناب کرو.. غیر مسلموں کے تہوار کے دن انکی عبادت گاھوں میں داخل نہ ھو کیونکہ ان پر الله کی ناراضگی نازل ھوتی ھے.."(بيهقی9/392)


#غیر مسلم کی تہواروں جیسے کرسمس ہولی، دیوالی، جشنِ نوروز وغیرہ کی مبارک باد کا شرعی حکم...!
اقلیتوں سے اچھے سلوک کا حکم تعامل اور ان کے ساتھ معاشرے میں رہن سہن کے طور طریقہ شریعت میں واضح ہیں تالیف قلب یا انکی خوشیوں میں شرکت کا قطعا یہ مطلب نہیں کہ انکے مذہبی تہواروں میں شرکت شروع کر دی جائے - یہ اچھا سلوک پورے سال علاوہ انکے تہواروں کے جاری رکھیں-
ارشاد باری تعالیٰ ہے :گناہ کی مجلس میں شامل نہ ہو "اور
حدیث مباركہ ھے.."الله كے دشمنوں سے انکے تہوار میں اجتناب کرو.. غیر مسلموں کے تہوار کے دن انکی عبادت گاھوں میں داخل نہ ھو کیونکہ ان پر الله کی ناراضگی نازل ھوتی ھے.."(بيهقی9/392)
اسلام غیر مسلموں سے رواداری اور حسن سلوک کی تلقین کرتا ھے.. دین اسلام ھی وہ واحد مذھب ھے جو حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان کی تلقین کرتا ھے.. اگر کوئی مسلمان حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان نہ رکھے تو وہ مسلمان نہیں ھو سکتا لیکن جس عمل سے عقیدے اور ایمان پر زد پڑتی ھو اس سے اجتناب ضروری ھے.. کچھ"روشن خیال"لوگ عیسائیوں کو کرسمس کی مبارک باد دیتے ھیں لیکن کرسمس کی'خوشیوں'میں شریک ھونا اور اِس کفریہ شعار اور عیدوں پر عیسائیوں کو مبارکباد پیش کرنا اور تہنیتی پیغام دینا بالاتفاق حرام ھے کیونکہ عیسائیوں کا کرسمس خالصتاً ایک کافرانہ تہوار ھے.. یہ اُس کفریہ ملت کی ایک باقاعدہ پہچان اور شعار ھے جو حضرت عیسیٰ عليہ السلام کو "خدا کا بیٹا" کہہ کر پروردگارِ عالم کے ساتھ شرک کرتی ھے.. نیز نبی آخر الزمان حضرت محمدٌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسترد کرکے وقت کی "آسمانی رسالت" کی منکر اور عذابِ الٰہی کی طلبگار ٹھہرتی ھے.. کرسمس کے اِس شرکیہ تہوار کی وجہِ مناسبت ھی یہ ھے کہ ان کے بقول اس دن"خدا کا بیٹا یسوع مسیح پیدا ھوا تھا"
ارشاد ربانی ہے :
کَبُرَتْ کَلِمَۃً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاہِہِمْ إِن یَقُولُونَ إِلَّا کَذِبا.."
ترجمہ :بہت بڑی بات ھے جو ان کے منہ سے نکلتی ھے.. نہیں بولتے یہ مگر بہتان.."(الکہف:۵)
مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ ایک ایسی قوم کو جو (معاذ اللہ)"خدا کے ھاں بیٹے کی پیدائش"پر جشن منا رھی ھو'مبارکباد پیش کرنے جائے اور اِس ’"خوشی"میں اُس کے ساتھ کسی بھی انداز اور کسی بھی حیثیت میں شریک ھو.. یہ عمل بالاتفاق حرام ھے بلکہ توحید کی بنیادوں کو مسمار کر دینے کا موجب ھے- کیونکہ اللہ سبحان و تعالٰی اپنی کتاب میں فرماتے ہیں :
"کہو.. وہ اللہ یکتا ھے.. الله سب سے بے نیاز ھے.. نہ وہ کسی کا باپ ھے اور نہ وہ کسی کا بیٹا ھے اور نہ ھی کوئی اس کا ھمسر ھے..''(سورہ الاخلاص)
امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں
"شعائر کفر سے متعلقہ کاموں پر مبارکباد دینا بالاتفاق علماء حرام ہے ۔ جیسے تہواروں یا ان کے روزے کے دن انہیں یہ کہنا :" آپ کو عید مبارک ہو"۔ یا اس طرح دیگر تہواروں کو مبارکباد دینے والے کلمات کہنا، اس کی مثال ایسی ہے جیسے انہیں صلیب کو سجدہ کرنے پر مبارکباد دی جائے ، یہ تو اللہ کے نزدیک کسی کو شراب پینے ، ناحق قتل کرنے اور زنا کرنے جیسے گناہوں پر مبارکباد دینے سے بھی زیادہ برا گناہ ہے اور اس کی ناراضگی کا باعث ہے ۔
ان تہواروں پر مبارکباد دینے والوں میں اکثریت ان لوگوں کی ہوتی ہے جن کے پاس دین کی کوئی قدروقیمت نہیں ہوتی ، اور انہیں اپنے اس فعل کی قباحت کا علم نہیں ہوتا ہے ، پس جس کسی نے کسی کو کسی بدعت یا نافرمانی یا کفر کرنے پر مبارکباد دی تو وہ اللہ کے غضب اور اس کے عذاب مستحق ٹھہرا"۔
(احکام اھل الذمۃ : 441/442-1
۔
ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﮐﻔﺎﺭ ﮐﻮ ﺍﻧﮑﮯ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﺗﮩﻮﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺎﺭﮐﺒﺎ ﺩ ﺩﯾﻨﺎ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﺣﺮﻣﺖ ﮐﯽ ﺷﺪﺕ ﺍﺑﻦ ﻗﯿﻢ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺫﮐﺮ ﮐﺮﺩﯼ ﮨﮯ، - ﺣﺮﺍﻡ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮑﮯ ﮐﻔﺮﯾﮧ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﮐﺎ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﮧ ﻓﺮﻣﺎﻥِ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﮯ :
{ ﺇﻥ ﺗﻜﻔﺮﻭﺍ ﻓﺈﻥ ﺍﻟﻠﻪ ﻏﻨﻲ ﻋﻨﻜﻢ ﻭﻻ ﻳﺮﺿﻰ ﻟﻌﺒﺎﺩﻩ ﺍﻟﻜﻔﺮ ﻭﺇﻥ ﺗﺸﻜﺮﻭﺍ ﻳﺮﺿﻪ ﻟﻜﻢ }
ﺗﺮﺟﻤﮧ : ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﮐﻔﺮ ﮐﺮﻭ ﺗﻮ ﺑﯿﺸﮏ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻣﺤﺘﺎﺝ ﻧﮩﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ‏( ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ‏) ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﻔﺮ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺍﺳﮑﺎ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻭ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮦ ﻋﻤﻞ ﮨﮯ -
اس کے علاوہ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺗﮩﻮﺍﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﻣﺒﺎﺭﮐﺒﺎﺩ ﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺍﺳﮑﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﻨﮕﮯ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺗﮩﻮﺍﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﻥ ﺗﮩﻮﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﺎ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺗﮩﻮﺍﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺬﮨﺐ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺳﺎﺧﺘﮧ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﻧﮑﮯ ﺩﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﭘﺮ ﺳﺎﺭﯼ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻧﺎﺯﻝ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﮐﻮ ﻣﻨﺴﻮﺥ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
{ ﻭﻣﻦ ﻳﺒﺘﻎ ﻏﻴﺮ ﺍﻹﺳﻼﻡ ﺩﻳﻨﺎً ﻓﻠﻦ ﻳﻘﺒﻞ ﻣﻨﻪ ﻭﻫﻮ ﻓﻲ ﺍﻵﺧﺮﺓ ﻣﻦ ﺍﻟﺨﺎﺳﺮﻳﻦ }
ﺗﺮﺟﻤﮧ : ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﯾﻦ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﯾﮕﺎ ؛ ﺍﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻗﺒﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ، ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺁﺧﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﺧﺴﺎﺭﮦ ﭘﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﻮﮔﺎ۔
ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺱ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﺗﻘﺎﺭﯾﺐ ﭘﺮ ﺍﻧﮑﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻧﮑﯽ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮﻧﺎ ﺍُﻧﮩﯿﮟ ﻣﺒﺎﺭﮐﺒﺎﺩ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﺍ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ۔
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﻥ ﺗﮩﻮﺍﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﮐﻔﺎﺭ ﺳﮯ ﻣﺸﺎﺑﮩﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻘﺎﺭﯾﺐ ﮐﺎ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﮐﺮﯾﮟ، ﯾﺎ ﺗﺤﺎﺋﻒ ﮐﺎ ﺗﺒﺎﺩﻟﮧ ﮐﺮﯾﮟ، ﯾﺎ ﻣﭩﮭﺎﺋﯿﺎﮞ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﺮﯾﮟ، ﯾﺎ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮈﺷﯿﮟ ﺑﻨﺎﺋﯿﮟ، جیسے کیک وغیرہ ﯾﺎ ﻋﺎﻡ ﺗﻌﻄﯿﻞ ﮐﺎ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﮐﺮﯾﮟ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻧﺒﯽ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﮨﮯ :
"من تشبه بقوم فهو منهم
ترجمہ :‏ ﺟﻮ ﺟﺲ ﻗﻮﻡ ﮐﯽ ﻣﺸﺎﺑﮩﺖ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﯾﮕﺎ ﻭﮦ ﺍُﻧﮩﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﮯ ‏۔"
ﺷﯿﺦ ﺍﻻﺳﻼﻡ ﺍﺑﻦ ﺗﯿﻤﯿﮧ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﺎﺏ ‏( ﺍﻗﺘﻀﺎﺀ ﺍﻟﺼﺮﺍﻁ ﺍﻟﻤﺴﺘﻘﻴﻢ، ﻣﺨﺎﻟﻔﺔ ﺃﺻﺤﺎﺏ ﺍﻟﺠﺤﻴﻢ ‏) ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ :
" ﮐﻔﺎﺭ ﮐﮯ ﭼﻨﺪ ﺍﯾﮏ ﺗﮩﻮﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻣﺸﺎﺑﮩﺖ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍُﻧﮑﮯ ﺑﺎﻃﻞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﺮﺕ ﮐﯽ ﻟﮩﺮ ﺩﻭﮌ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ،ﺍﻭﺭ ﺑﺴﺎ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺳﮑﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﺻﺖ ﺳﮯ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﮭﺴﻼﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ " ﺍﻧﺘﮩﯽ ﻣﺬﮐﻮﺭﮦ ﺑﺎﻻ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺎﻡ ﮐﯿﺎﻭﮦ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﮨﮯ، ﭼﺎﮨﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﺎﻣﻠﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ، ﯾﺎ ﺩﻟﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ، ﯾﺎ ﺣﯿﺎﺀ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺳﺒﺐ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ، ﺍﺳﮑﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﯾﻦ ﺍﻟﮩﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﻼﻭﺟﮧ ﻧﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ، ﺟﻮ ﮐﮧ ﮐﻔﺎﺭ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻧﻔﺴﯿﺎﺗﯽ ﻗﻮﺕ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻨﯽ ﻓﺨﺮ ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ ﺑﻨﺎ ﮨﮯ۔
‏( ﻣﺠﻤﻮﻉ ﻓﺘﺎﻭﻯ ﻭﺭﺳﺎﺋﻞ ﺷﻴﺦ ﺍﺑﻦ ﻋﺜﻴﻤﻴﻦ 3/369 ‏)
حضرت عمر فاروق کی غیرت دینی اور اہل ذمہ سے تعامل بھی ملاحظہ کریں:
" قال عمر رضي الله عنه: إياكم ورطانة الأعاجم، وأن تدخلوا على المشركين يوم عيدهم في كنائسهم فإن السخطة تتنزل عليهم. رواه أبو الشيخ الأصبهاني والبيهقي
بإسناد صحيح
" عجمیوں کے اسلوب اور لہجے مت سیکھو۔ اور مشرکین کے ہاں اُن کے گرجوں میں ان کی عید کے دن ان پر خدا کا غضب نازل ہوتا ہے"
گویا غیرت دینی کا تقاضا تو یہ ہے کہ اس دن کفریہ تہوار کی جگہوں پر جانا بھی جائز نہیں
بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اسلامی ممالک میں کافروں کو سر عام کافرانہ جشن کی سربازار,شتر بے مہار اجازت دینا ہی درست نہیں اور یہ بات سخت محل نظر ہے-
(البتہ انکے مخصوص عبادت خانوں اور گھروں میں اجازت دی جائے گی )
علاوہ ازیں کفار کے تہوار میں شرکت اور مبارکباد کی ممانعت پر حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ سب متفق ہیں
(فقہ حنفی: البحر الرائق لابن نجیم ج ۸، ص ۵۵۵،
فقہ مالکی: المدخل لابن حاج المالکی ج ۲ ص۴۶۔۴۸،
فقہ شافعی:مغنی المحتاج للشربینی ج ۴ ص ۱۹۱، الفتاویٰ الکبریٰ لابن حجر الہیتمی ج ۴ ص ۲۳۸۔۲۳۹،
فقہ حنبلی:کشف القناع للبہوتی ج ۳ ص ۱۳۱)۔
فقہائے مالکیہ تو اس حد تک گئے ہیں کہ جو آدمی کفر کے تہوار پر ایک تربوز کاٹ دے وہ ایسا ہی ہے گویا اُس نے خنزیر ذبح کر دیا۔ (اقتضاء الصراط المستقیم ص ۳۵۴)
میرے پیارے بھائیوں ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ذیادہ خوش اخلاق کون ہوسکتا ہے کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکی اور مدنی زندگی میں کبھی ایسے کیا... ؟؟؟
کرسمس‘‘ ایسے معلوم شعائرِ کفر سے دور رہنا تو فرض ہے ہی، ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ایک مسلمان اس ملتِ کفر سے کامل بیزاری کرے۔کرسمس‘‘ ایسے معروف نصرانی تہوار کو محض ایک ’سماجی تہوار‘ کہہ کر اس کے لئے جواز پیدا کرنا گمرا کن ہے جواز کے یہ سارے فتوے صرف دور زوال کی یادگار ہیں ,یہ اخلاق نہیں بلکہ مداہنت کا مظہر ہیں-
چنانچہ کفار کے مذہبی تہواروں میں شامل ہونا انکے تہواروں کواچھا سمجھنااور انہیں مبارک باد دیناجیسے اعمال اسلام کو گرانے کے مترادف ہےانکے کفریہ عقائد کی تائید ایک مسلمان کے لئے کفر کے زمرے میں آتا ہے-اسلئے ایسے تمام باطل کافرانہ افعال میں شامل ہونے سے پرہیز کریں-
حسن اخلاق، رواداری اور تقسطوا الیہم پر عمل کے لیے باقی سارا سال پڑاہے-